1 جون 2026 - 16:43
ایران کو امریکہ کے ساتھ معاہدے کی جلدی نہیں، تہران بازدارندگی کی حکمتِ عملی پر قائم ہے: فنانشل ٹائمز

فنانشل ٹائمز میں شائع مضمون کے مطابق ایران امریکی وعدوں پر اعتماد نہیں کرتا اور کسی بھی نئے معاہدے کے لیے جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کی ضمانت کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فنانشل ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں معروف تجزیہ کار ولی نصر نے لکھا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی نئے معاہدے کے لیے جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کر رہا، کیونکہ تہران کو امریکی حکومت پر اعتماد نہیں اور اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہونے والے تجربات پر شدید تحفظات ہیں۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ تہران میں جاری داخلی بحث کا بنیادی نکتہ مذاکرات کی مخالفت نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ آیا امریکہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مصنف کے مطابق ایران اب بھی اس تجربے کو یاد رکھتا ہے جب ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی اور مذاکرات کے دوران بھی فوجی اقدامات کیے گئے تھے۔

ولی نصر کے مطابق اسی پس منظر کے باعث ایران کے سیاسی اور حکومتی حلقوں کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ مرحلہ وار معاہدے یا عارضی جنگ بندی پائیدار سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایران نے سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے کیونکہ وہ موجودہ تنازع کو اپنی قومی سلامتی اور بقا سے جڑا معاملہ سمجھتا ہے۔ تہران کی اولین ترجیح یہ ہے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ شروع نہ ہو، جبکہ اس کے نزدیک عارضی جنگ بندی کے بعد وسیع مذاکرات کی موجودہ تجاویز اس مقصد کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتیں۔

مصنف کے مطابق ایران میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سفارت کاری کے وعدے بعض اوقات کشیدگی کم کرنے کے بجائے جنگ کے امکانات بڑھا سکتے ہیں، کیونکہ مذاکرات کے دوران ایران اپنی احتیاطی تدابیر میں کمی کر سکتا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ مزید دباؤ یا ممکنہ تصادم کی تیاری جاری رکھتا ہے۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں امریکہ کی مبینہ اسٹریٹجک ناکامی سے متعلق ہونے والی بحث ایرانی تجزیہ کاروں کی نظر میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے ایک نئی محاذ آرائی کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ بعض امریکی حلقے جنگ کے نتائج بدلنے کے لیے دوبارہ طاقت کے استعمال کی طرف جا سکتے ہیں۔

ولی نصر کے مطابق ایران امریکہ کو پائیدار امن کا خواہاں نہیں سمجھتا بلکہ اس کا خیال ہے کہ واشنگٹن جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنا کر ایران کو کمزور اور تنہا رکھنا چاہتا ہے۔

مضمون میں "بازدارندگی" کو تہران کی موجودہ حکمتِ عملی کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق ایران اس پالیسی کو تین اہم میدانوں میں آگے بڑھا رہا ہے: آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور امریکہ پر ممکنہ لاگت بڑھانے کی صلاحیت۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی عسکری اور اتحادی حلقوں کے نزدیک جنگ کی بھاری قیمت ہی مستقبل میں کسی نئے حملے کو روکنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ حالیہ جنگ نے امریکہ پر بھاری مالی اور سیاسی بوجھ ڈالا جبکہ اس کے عالمی معاشی اثرات بھی نمایاں رہے ہیں۔

مضمون کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ ایک وسیع اور دیرپا معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ مصنف کے مطابق ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم وہ اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اسی طرح تہران محدود مدت کے لیے یورینیم افزودگی میں کمی یا تعطل پر غور کر سکتا ہے، لیکن وہ اس بات پر اصرار کرے گا کہ دی جانے والی رعایتیں قابلِ واپسی ہوں اور اس کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہ کی جائے، تاکہ اس کی بازدارتی قوت برقرار رہے۔ یہی عوامل مستقبل میں کسی جامع اور پائیدار معاہدے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha